ظلم و ستم

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - بے حد ظلم، ناانصافی، زیادتی۔ "فاشست کیمپوں میں دم توڑ رہے ہیں، جرمن اذیت گاہوں میں ظلم و ستم کا نشانہ بن رہے ہیں۔"      ( ١٩٧٠ء، قافلہ شہیدوں کا (ترجمہ)، ٦٣٥:١ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'ظلم' کے بعد 'و' بطور حرف عطف لگانے کے بعد فارسی سے ماخوذ اسم 'ستم' لگانے سے مرکب 'ظلم و ستم' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٧٩٥ء کو "تذکرۂ شعرائے بدایوں" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بے حد ظلم، ناانصافی، زیادتی۔ "فاشست کیمپوں میں دم توڑ رہے ہیں، جرمن اذیت گاہوں میں ظلم و ستم کا نشانہ بن رہے ہیں۔"      ( ١٩٧٠ء، قافلہ شہیدوں کا (ترجمہ)، ٦٣٥:١ )

جنس: مذکر